جمعرات 15 اکتوبر 2026 - 22:30
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ثقافتی مقابلہ:تعلیمی سرگرمیاں ثقافتی مقابلوں سے فروغ پاتی ہیں، پروفیسر ہما یعقوب

حوزہ/مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی لکھنؤ ہندوستان میں طلباء میں ایک ثقافتی مقابلہ منعقد ہوا، جس میں اساتذہ اور مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباء نے بھرپور شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہذیبی و ثقافتی مقابلے تعلیمی کیمپس کی روح کا کام کرتے ہیں۔ جن کا مقصد طلبہ کی ادبی، فکری،تقریری اور تخلیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنا ہوتا ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی لکھنؤ کیمپس ہر برس اس کا اہتمام کرتا ہے، جس میں لکھنؤکے تعلیمی اداروں کے طلبہ کو باقاعدہ مدعو کیا جاتاہے۔خوشی کی بات یہ ہے کہ طلبہ بہت ذوق و شوق سے ان مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار کیمپس کی انچارج پروفیسر ہما یعقوب نے مقابلوں کے اختتام پر کیا۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ثقافتی مقابلہ:تعلیمی سرگرمیاں ثقافتی مقابلوں سے فروغ پاتی ہیں، پروفیسر ہما یعقوب

واضح رہے کہ لکھنؤ کیمپس نے 13 تا 14 اکتوبر 2026 کے دوران مختلف ثقافتی مقابلوں کا اہتمام کیا تھا، جس میں دارالعلوم ندو العلماء، ارا یونیورسٹی، ممتاز پی جی کالج، شیعہ پی جی کالج، نیشنل پی جی کالج کی ٹیموں نے حصہ لیا۔

مقابلے کا آغاز13 اکتوبر 2026 کو 'قدرتی آفات' (Natural Calamities) کے موضوع پر منعقدہ پوسٹر سازی کے مقابلے سے ہوا۔ اس مقابلے میں مانو لکھنؤکیمپس اور لکھنؤ کے دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ نے شرکت کی۔

پوسٹر سازی کے مقابلے میں ڈاکٹر نکہت فاطمہ، ڈاکٹر مجاہد الاسلام اور محترمہ عزیز فاطمہ نے جج کے فرائض انجام دیے۔پہلا انعام طالبہ حرم فاطمہ (لکھنؤ کیمپس)نے حاصل کیا۔ دوسرا انعام اِلما صدیقی (ممتاز پی جی کالج)اور تیسرا انعام ثنوّر پروین (لکھنو کیمپس) کو دیا گیا۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ثقافتی مقابلہ:تعلیمی سرگرمیاں ثقافتی مقابلوں سے فروغ پاتی ہیں، پروفیسر ہما یعقوب

بیت بازی مقابلے میں لکھنؤ کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کی کل نو ٹیموں نے حصہ لیا۔

ڈاکٹر عمیر منظراور ڈاکٹر نور فاطمہ نے جج کے فرائض انجام دیے۔

اس مقابلے میں پہلا انعام خوشنوید احمد اور ثاقب انور(ممتاز پی جی کالج) نے حاصل کیا۔ دوسرا انعام عبدالرحمن اور محمد نعمان فرید (شیعہ پی جی کالج) کو دیا گیا۔ تیسرا انعام عرش احمد اور محمد طلحہ (دارالعلوم ندو العلمائ) کو دیا گیا۔

پروگرام کی میزبانی شعبۂ اردو کی ریسرچ اسکالر سعدیہ خاتون نے کی۔ ڈاکٹر اکبر علی نے کلمات تشکر ادا کیے۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ثقافتی مقابلہ:تعلیمی سرگرمیاں ثقافتی مقابلوں سے فروغ پاتی ہیں، پروفیسر ہما یعقوب

14 اکتوبر کوایک شاندار ’نمائشِ ہنر‘ (Skill Exhibition) منعقد کی گئی۔

اس نمائش میں مانو لکھنؤ کیمپس کے طلباءو طالبات کی تیار کردہ پینٹنگز، ڈرائنگز اور کڑھائی کے کاموں کا ایک متنوع مجموعہ پیش کیا گیا، جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں، فنی مہارت اور دستکاری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

اس نمائش کی منتظم محترمہ عزیز فاطمہ تھیں۔ ڈاکٹر شاہ محمد فائز اور ڈاکٹر ریاض احمد گنائی نے جج کے فرائض انجام دیے۔

نمائش میں پہلی پوزیشن مشترکہ طور پر مریم خاتون (لکھنو کیمپس) امِ ایمن (لکھنو کیمپس) دوسری پوزیشن حرم فاطمہ، کاشف جمال (لکھنو کیمپس) مشترکہ طور پر حاصل کی۔ تیسری پوزیشن کلثوم پروین اور نمل فاطمہ (لکھنو کیمپس) کو مشترکہ طور پر دی گئی۔

'تعلیم میں مصنوعی ذہانت: فوائد اور نقصانات' کے موضوع پر تقریری مقابلے میں مختلف تعلیمی اداروں کے بیس طلبا نے حصہ لیا۔

ڈاکٹر تجمل حق، ڈاکٹر نکہت فاطمہ اور ڈاکٹر سری نواس بندامیڈی نے جج کے فرائض بھی انجام دیے۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ثقافتی مقابلہ:تعلیمی سرگرمیاں ثقافتی مقابلوں سے فروغ پاتی ہیں، پروفیسر ہما یعقوب

پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر تعظیم حیدر نے کی۔

تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن ابو طالب (ممتاز پی جی کالج) نے حاصل کی۔ دوسری پوزیشن (خوشنوید احمد(ممتاز پی جی کالج) تیسری پوزیشن ندا انیس (مانو)نے حاصل کی۔

پروگرام کے اختتام پرلکھنو کیمپس کی انچارج پروفیسر ہما یعقوب نے مقابلے کے فاتحین کے ناموں کا اعلان کیا اور تمام سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر تمام طلباءکو مبارکباد دی۔

پروفیسر یعقوب نے طلباء اور فیکلٹی ممبران کا شکریہ بھی ادا کیا۔انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ شیلڈ اور سرٹیفکٹ 11نومبر کو قومی یوم تعلیم /آزاد ڈے کے موقع پر دیے جائیں گے۔

ان مقابلوں کو بہتر بنانے کے لیے جو کمیٹیاں تشکیل دی گئیں تھیں ان کا بطور خاص شکریہ ادا کیا گیا۔ ان کے معزز ممبران میں ڈاکٹر سرفراز احمد خان، ڈاکٹر ذیشان حیدر، ڈاکٹر مصطفیٰ اطہر، عزیز فاطمہ ڈاکٹر اکبر علی، ڈاکٹر انوار الحق ڈاکٹر نزہت اختر، ڈاکٹر شمس الحق اور ڈاکٹر آمنہ عنبرین اور عبدالرحمن شامل تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha